ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / اقلیتی ووٹروں کو’لالی پاپ ‘ دینے کیلئے بی جے پی نے 850 سے زیادہ مسلم امیدواروں کو دیا ٹکٹ

اقلیتی ووٹروں کو’لالی پاپ ‘ دینے کیلئے بی جے پی نے 850 سے زیادہ مسلم امیدواروں کو دیا ٹکٹ

Mon, 07 May 2018 00:16:13    S.O. News Service

نئی دہلی ،06؍مئی ( ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا ) بی جے پی نے مغربی بنگال میں ہونے والے پنچایت انتخابات میں 850 سے زیادہ مسلم امیدواروں کو میدان میں اتارا ہے۔جو بی جے پی کی چال کو مزید واضح کرتا ہے کہ جس پارٹی کے ایم پی بابل سپریو مسلمانوں کی کھال کھینچنے کی بات کرتے ہیں اب وہی پارٹی نام نہاد مسلمانوں کو خرید کر امیدوار بھی بنا رہی ہے ؛لٰہذا خود اب مسلمانوں کو بھی ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے ۔ واضح ہو کہ پارٹی اتنی بڑی تعداد میں مسلم امیدواروں کو میدان میں اتارنے کے ساتھ مسلمانوں کو اپنے حق میں کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔ غور طلب ہے کہ ریاست میں آئندہ دیہی علاقوں میں 14 مئی کو انتخابات ہونے ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ گزشتہ انتخابات یعنی سال 2013 میں ہوئے پنچایت انتخابات میں بی جے پی کے امیدواروں کی فہرست میں اقلیتی برادری سے آنے والے امیدواروں کی تعداد 100 سے بھی کم تھی۔ حکمران ترنمول کانگریس اقلیتی برادری تک پہنچنے کی بی جے پی کی کوشش کو خاص اہمیت نہیں دے رہی ہے۔ ترنمول کانگریس کا کہنا ہے کہ مذکورہ طبقہ پر ممتا بنرجی پر اعتماد برقرار ہے۔ ترنمول رہنما پارتھ چٹرجی نے کہا کہ اقلیتی برادری کے لوگوں کو ہم پر پورا بھروسہ ہے۔ بی جے پی اقلیتوں کا اندراج کر رہی ہے اور ریاست میں فسادات کو ہوا دے رہی ہے، یہ ا س کی دوہری مفاد پرستانہ سیاست ہے جس کو خود مسلمان اس کا جواب دیں گے ۔ وہیں بی جے پی کے ایک سینئر لیڈر نے 2016 کے اسمبلی انتخابات کی مثال دی جب پارٹی کی 294 امیدواروں کی فہرست میں محض چھ امیدوار ہی مسلم تھے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی نے کہا کہ ظاہری طور پر مغربی بنگال جیسی ریاست میں ہمیں اقلیتی برادری تک رابطہ قائم کرنا پڑے گا کیونکہ یہاں تقریبا 30 فیصد آبادی مسلمان ہے۔ مسلم طبقہ بھی اب سمجھ چکا ہے کہ بی جے پی ان کا دشمن نہیں ہے جیسا ترنمول اور دیگر جماعتوں کی طرف سے دکھایا جاتا ہے ،مگر ابھی بہار و بنگال او ر آسنسول میں بھڑکائے گئے فرقہ وارانہ فسادات میں بی جے پی ایم پی بابل سپریو کا ’کھال کھینچنا‘ اب بھی ان کی ذہنیت اور نفاق کو واضح کرتا ہے ۔ مزید برآں بی جے پی کے ریاستی یونٹ کے صدر دلیپ گھوش نے کہا کہ نامزدگی کے عمل پرامن رہتا تو پارٹی دیہی علاقے کے انتخابات میں 2ہزار سے زائد تعداد میں اقلیتی امیدوار اتارتے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ٹکٹ مذہب یا ذات کی بنیاد پر نہیں بلکہ جیتنے کی صلاحیت کی بنیاد پر دیئے ہیں ۔ 


Share: